مجھے ہے حکم اذان۔۔ نوشابہ یعقوب راجہ

مجھے ہے حکم اذان۔۔
نوشابہ یعقوب راجہ

(کالم نویس اینڈ ریزیڈنٹ ایڈیٹر سویرا نیوز پیرس )

آج پورے پاکستان اور دنیا کے اکثر و بیشتر مقامات پر اذان کی صدائیں سنائی دیں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے مساجد اور جمعہ کے اجتماعات میں پابندی کے پیش نظر لوگوں نے گھروں کی چھتوں پہ جا کر اذانیں دیں ۔سپین میں بھی ایک مدت کے بعد اذان کی صدائیں سنائی گئیں۔ کرونا وائرس نے دنیا کے کروڑوں لوگوں کو گھروں تک محصور کر دیا ہے۔دنیا کے قابل ترین سائنسدان،ہسپتال، ڈاکٹرز سب کے سب بے بس دکھائی دے رہے ہیں ۔
د نیا کی معیشت ،معاشرتی زندگی،تعلیمی ادارے،کالجز ،یونیورسٹیز ،کارخانے،صنعتیں، کاروبار غرضیکہ سارانظام زندگی دھرم برھم ہو کر رہ گیا ہے۔چاند اور مریخ پہ حکومت کرنے والے دعوےدار، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین سب کے سب ایک کرونا وائرس کے سامنے بے بس ہو کر رہ گئے۔باجود ان کی ان تھک محنت کے اس پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے۔لاکھوں لوگ اس بیماری کا شکار ہو گئے ہیں اور ہزاروں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔اور آئے روز سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بن رہے ہیں۔آئے روز سوائے تسلیوں اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے مشورے دینے کے کوئی چارہ نہیں ہے ۔یہ ایک قدرتی آفت ہے اور اس وقت دنیا کے 186 ممالک تک پھیل چکی ہے۔ایک چھوٹے سے کرونا نے بڑے بڑے طاقتور ممالک کے سربراہان کو کہنے پہ مجبور کر دیا ہے کہ اب اوپر والا ہی کچھ کر سکتا ہے۔دنیا بھر میں اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اقوام عالم تکبیر کی صداوں سے گونج رہا ہے۔مگر نجانے کیوں سب دیکھ کر دل میں خیال ابھرا جس طرح نعرہ تکبیر سے دنیا کی فضا معطر ہو رہی ہے خدارا لگے ہاتھ اک تکبیر اپنے اندر بھی کرنے کی ضرورت ہے بہت اندھیرا ہے ،بہت جہالت ہے۔تکبیر کی ایک ضرب دل میں بسنے والے لات منات،ہبل، کے خلاف بھی جہاں من کے مندر میں لالچ،نفرت،حسد،کینہ،تکبر، خود غرضی اور خود پسندی اور نجانے کس کس رنگ اور قسم کے بتوں سے آراستہ کیے بیٹھے ہیں۔آج دل کے صنم کدہ کو بھی ایک ابراہیم علیہ السلام کی ضرورت ہے جب تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح سارے بتوں کو نہیں گرایا جائے گا۔بات نہیں بنے گی توحید کی بنیاد یہی ہےکہ دل کے تخت کی بادشاہت صرف اور صرف اللہ رب العزت کے حوالے کی جائے جو اصل بادشاہت کے لائق ہے ۔وگرنہ تو

خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں!!

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب بتوں کی مخالفت زیادہ شروع کی ان کی قوم ایک میلے میں گئی تو ان کےتمام بت توڑ دے اور سب سے بڑے بت کے کندھے پر کلہاڑی رکھ دی۔واپسی پر قوم نے دیکھا اور کہا یہ ابراہیم علیہ السلام کا کام ہے۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا اپنے بڑے بت سے پوچھو تو قوم نے جواب دیا وہ نہ بول سکتے ہیں نہ ہی سن سکتے ہیں۔تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا جو اپنی حفاظت نہیں کر سکتے وہ تمھاری کیسے کریں گے۔جب نمرود کو علم ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دربار میں بلوا لیا ۔ نمرود بہت مغرور بادشاہ تھا اس کا شمار ان 4 بادشاہوں میں ہوتا ہے جنھوں نے 400 سال تک پوری دنیا میں بادشاہت کی۔ بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے سبب سےکہ اللہ نے اس کوسلطنت بخشی تھی،حضرت ابراہیم سے پروردگار سے متعلق جھگڑنے لگا۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے۔تو اس نے کہا زندہ کرنا اور مارنا میں بھی کر سکتا ہوں ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا میرا رب وہ ہے جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اور تو اسے مغرب سے نکال دے۔یہ سن کر کافر ششدر رہ گیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔(سورہ البقرہ:258/2)

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی دلیل کو غلط ثابت کر دیا۔اس کی جہالت اور کم عقلی کو آشکارا کر دیا۔نمرود نے آگ دھکا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس میں ڈال دیا۔اور اللہ نے آگ کو حکم دیا کہ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم سے محفوظ رہے۔

آج بھی ہو گر ابراہیم کا ایمان پیدا
تو آگ کر سکتی ہے انداز گلستان پیدا

دوسری طرف اللہ نے نمرود کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا جس نے اللہ پر ایمان لانے کو کہا مگر وہ نہ مانا دوسری بار بھیجا اور تیسری بار نمرود نے پھر انکار کیااور کہا تو اپنے لشکر جمع کر میں بھی اپنے لشکر جمع کرتا ہوں ۔طلوع آفتاب کے وقت نمرود نے اپنی تمام فوجیں جمع کر لیں۔اللہ نے اتنے مچھر بھیج دیے کہ سورج ان کی اوٹ میں چھپ گیا۔اللہ نے لشکر والوں پر مچھر مسلط کر دیے انھوں نے ان کا گوشت اس طرح کھا لیا کہ صرف ہڈیاں رہ گئیں۔ایک مچھر بادشاہ کی ناک میں گھس گیا اور اللہ نے اسے چار سو سال عذاب میں مبتلا رکھا۔چنانچہ اس کے سر پر ہتھوڑے مارے جاتے تھے حتی کہ وہ اللہ کے حکم سے ہلاک ہ گیا۔

تاریخ اسلام بتاتی ہے کہ دنیا میں ظلم اور برائی بڑھتی ہے تو اللہ اپنے لشکر،جراثیم، بیماریاں اور آفات بھیج کر اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ہماری زمین کل کائنات کا ایک چھوٹا سا سیارہ ہے۔ہم انتہائی بے بس اور مجبور مخلوق بس جب بھی کبھی کسی کو خلافت کے اختیارات کا نشہ چڑھ جاتا ہے وہ نمرود ،شداد اور فرعون بننے کی کوشش کرتا ہے۔تو اللہ اپنی مظلوم بے بس لوگوں کی آوار بن کر دنیا کو دکھاتا ہے کہ سپر پاور میں ہوں اور میری ڈھیل کو میری کمزوری مت سمجھو۔میں رب العالمین ہوں تمام جہانوں کا رب ہوں میری مخلوق میری ذمہ داری ہے۔
آج جب اتنے جدید دور میں اپنی کمزوری اور بے بسی کو جان گئے ہیں تو اذان من کے اندھیروں میں بھی دیں وہ روشنی جلے گی تو اجالا ہوگا۔
علامہ اقبال( رح ) نے فرمایا تھا

خودی کا سِرِّ نہاں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ
خودی ہے تیغ، فَساں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ
یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ
کِیا ہے تُو نے متاعِ غرور کا سودا
فریب سُود و زیاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ
یہ مال و دولتِ دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بُتانِ وہم و گُماں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زنّاری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ
یہ نغمہ فصلِ گُل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ
اگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حُکمِ اذاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ

کلمہ توحید خودی کا چھپا ہوا راز ہے اور جس پر یہ راز آشکار ہوتا ہے وہ اللہ کے مقبول بندوں میں شامل ہوتا ہے۔ حکم اذان میرا فرض ہے۔اللہ مجھے آپ سب کو ہدایت دے، سمجھ دے اور اپنے مقرب اور مقبول بندوں میں شامل کرےاور کرونا وائرس سے ہم سب کو ہمارے پیارے وطن پاکستان اور پورے پلینٹ کو محفوظ رکھے۔آمین ثم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں