پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کے دوران وزیراعظم کیوں گئے؟ شہباز، بلاول واک آؤٹ کر گئے

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کے دوران چلے جانے پر پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔

تفصیلات کے مطابق ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد کے بعد آج پارلیمانی پارٹی کے رہنماؤں کی میٹنگ بلائی گئی تھی ان میٹنگ میں وزیراعظم عمران خان نے ویڈیو کانفرنس سے خطاب کیا تھا۔

ویڈیو کانفرنس میں خطاب کے بعد وزیراعظم عمران خان کے چلے جانے کے بعد اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیوں کے رہنماؤں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔ اور موقف اپنایا کہ وزیراعظم اجلاس سے کیوں چلے گئے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کا اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں، یہ ملک کے سربراہ کی سنجیدگی کا لیول ہے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں اجلاس میں بیٹھنا مناسب نہیں، واک اوٹ کرتے ہیں، اتنی بڑی وبا نے پاکستان کو متاثر کیا ہے اور یہ سنجیدگی ہے۔

دوسری طرف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کے دوران وزیراعظم کی غیر موجودگی پر افسوس ہے، ایسا لگتا ہے جیسے وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کی بات نہیں سننا چاہتے۔

Shehbaz Sharif (Stay at home to stay safe)

@CMShehbaz
Disappointed by PM’s intentional absence from the meeting of parliamentary leaders today. It seems he is still not ready to listen to the Opposition & the whole country just saw the seriousness of its Chief Executive. I was left with no option but to walk out in protest.

4,040
4:50 PM – Mar 25, 2020
Twitter Ads info and privacy
2,147 people are talking about this
ان کا مزید کہنا تھا کہ پوری قوم نے ملک کے چیف ایگزیکٹو کی سنجیدگی دیکھی، میں واک آؤٹ کر گیا کیونکہ میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا، اسی لیے احتجاجاً میں نے واک آؤٹ کیا۔

اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے رہنما مولانا عبد الغفور حیدری کا کہنا تھا کہ ملک میں اب تنقید، سیاست کا وقت نہیں، قومی سلامتی کی بات ہے۔ پاکستان میں ہم سب نے ملکر کورونا وائرس سے نجات حاصل کرنی ہے

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے پارلیمانی پارٹی رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں کرفیو لگانے سے پہلے اپنی تیاری کرنی ہوگی، کرفیو کی صورت میں رضاکاروں کی مدد لیں گے، جلد رضا کاروں کے پروگرام کا اعلان کروں گا۔

وزیراعظم عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے پارلیمانی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا پر 15 جنوری کو میٹنگ کی تھی، چین کے ساتھ رابطے میں رہے، ایران کے ساتھ بھی رابطے میں تھے، چین میں پاکستانی طلبا کو رکھنا اچھا فیصلہ تھا، چین سے ایک بھی کورونا کیس پاکستان نہیں آیا، پاکستانی زائرین ایران گئے ہوئے تھے، ایران کے پاس کورونا سے لڑنے کی صلاحیت نہیں تھی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایران نے پاکستانی زائرین تفتان سرحد بھیج دیئے، دباؤ بڑھنے کی وجہ سے زائرین کو پاکستان منتقل کیا، 9 لاکھ لوگوں کی اب تک ایئر پورٹس پراسکیننگ کرچکے، تقریباً 900 افراد کورونا وائرس کے مریض ہیں، کورونا کے صرف 153 مقامی کیس ہیں، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا، ہر وہ جگہ بند کر دی جہاں لوگ اکٹھے ہوسکتے تھے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہمارا خیال تھا سندھ کی طرز کا لاک ڈاؤن ابھی نہیں لگانا، ٹرانسپورٹ کی بندش سے کنسٹرکشن کا شعبہ متاثر ہوگا، گلگت بلتستان میں تیل کی کمی ہوگئی ہے، سندھ لاک ڈاؤن کے حوالے سے پنجاب سے آگے ہے، خوف سے کیے گئے فیصلوں کے باعث ہم مزید مشکلات پیدا کر دیتے ہیں، ایسے لاک ڈاؤن پر نہیں جانا چاہتے جس سے ٹرانسپورٹ بند ہو جائے، گندم کی کٹائی، کنسٹریشن انڈسٹری متاثر ہوسکتی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں تیل کی کمی ہوگئی، کرفیو لگایا تو گھروں میں کھانا پہنچانا پڑے گا، کیا ہمارے پاس گھروں میں کھانا پہنچانے کے انتظامات ہیں ؟ نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی ٹرانسپورٹ کے حوالے سے کل فیصلہ کرے گی، چاہتے ہیں سب مل کر کورونا کیخلاف جنگ جیتیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں