امریکا نے افغان حکومت کی ایک ارب ڈالر امداد کم کردی

امریکا نے افغانستان میں صدر اشرف غنی اور حریف رہنما عبداللہ عبداللہ کے درمیان حکومت سازی میں عدم اتفاق اور امن معاہدے کی پاسداری میں تاخیر پر کابل حکومت کے لیے مختص امدادی رقم میں سے ایک ارب ڈالر کی کٹوتی کردی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو غیر متوقع اور غیر اعلانیہ دورے پر کابل پہنچے جہاں صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان متوازی حکومت کی تشکیل اور سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کیلیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی۔

ملاقات کے دوران صدر اشرف غنی اور حریف رہنما عبداللہ عبداللہ نے مشترکہ حکومت سازی سے معذرت کرلی اور دونوں رہنما کسی ایک نکتے پر متفق نہیں ہوسکے جس کے بعد یہ اہم ملاقات بے نتیجہ ثابت ہوئی جب کہ مائیک پومپیو کی دونوں رہنماؤں کو امداد بند کرنے کی دھمکی بھی کارگر ثابت نہ ہوسکی۔
یہ خبر پڑھیں : امریکا اور طالبان میں امن معاہدے پر دستخط؛ امریکی فوج 14 ماہ میں افغانستان سے مکمل انخلا کرے گی

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بے سود ملاقات کے بعد کہا کہ افغان قائدین کا رویہ مایوس کن رہا، امن بحالی کے لیے ہزاروں اہلکاروں نے اپنی جان کے نذارانے پیش کیے لیکن افغان قائدین کی غیر سنجیدگی سے یہ قربانیاں رائیگاں جائیں گی اور اس طرح امریکا اور افغانستان کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں