نامعلوم افراد نے مجھے اسلحہ دکھا کر خوف ذدہ کرنے کی کوشش کی۔پروین عطاء ملک ایڈوکیٹ

نامعلوم افراد نے مجھے اسلحہ دکھا کر خوف ذدہ کرنے کی کوشش کی۔پروین عطاء ملک ایڈوکیٹ

عدالت عظمی،آئی جی پنجاب پولیس،حکومت پنجاب سے نوٹس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ممبر ایگزیکٹیو

بہاول پور سویرا نیوز (چیف اکرام الدین)ممبر ایگزیکٹو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن پروین عطاء ملک ایڈوکیٹ نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان سمیت پوری دُنیا کے انسانوں میں کرونا وائرس کا خوف ہے لیکن میرے مخالفین مجھے خوف زدہ کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آرہے انہوں نے بین الاقوامی گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 21 مارچ کوصبح گھر اوچ شریف سے بار احمد پور شرقیہ آتے ہوئے ایک کرولا کار میں سوار نامعلوم افراد نے میری کار کا پیچھا کیا اور اسلحہ دِکھاکر خوف زدہ کرنے کی کوشش کرتے رہے اور احمد پور شہر پہنچتے ہی غائب ہوگئے انہوں نے کہا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا پہلے پولیس کو اطلاع دیتی تھی لیکن اب نہیں دیتی کیونکہ ایسے لگتا ہے جیسے مقامی پولیس بھی مافیا کے آگے بے بس ہے یا مصلحت کا شکارہے انہوں کہا کہ یہ حرکت صرف اور صرف مجھ نہتی پر حملہ کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے والے کالے کوٹ میں چھُپی کالی بھیڑوں مہر مشتاق وغیرہ اور بدنام زمانہ کرائے کا غنڈہ کامران عرف کامی لاڑ سمیت میرے اور میرے خاندان کے دُشمن ،مجھ پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر کے مرکزی ملزم جمشید للو وغیرہ ہی کرسکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ مخالفین مجھے ڈرا دھمکا کر صلح لینے کے درپے ہیں۔جس کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے کبھی احاطہ کچہری میں غلیظ فقرے بازی کرتے ہیں ،کبھی گالم گلوچ کرکے اپنی اصلیت دکھاتے ہیں اور کبھی کردار کُشی کرکے اپنی خاندانیت کا پتہ دیتے ہیں اور ایسا سب کچھ کرکے میرے حوصلے پست کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میرا رب عظیم ہے عظیم ذات نے مجھے مظالم برداشت کرنے کا حوصلہ عطاء کیا ہوا ہے صرف اپنے خالق اور مالک سے ڈرتی ہوں جو سب چیزوں پر قادر ہے انشاء اللہ میرے دُشمنوں کے حصے میں رسوائی اور ناکامی آئے گی اللہ تعالیٰ میری مدد کے لیے اسباب پیدا کرتا رہتا ہے ۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان ، چیف جسٹس آف لاہور ہائی کورٹ،آئی جی پولیس پنجاب، چیف سیکرٹری حکومتِ پنجاب سمیت حقوقِ نسواں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی قومی و بین الاقوامی تنظیموں سے بھی معاملہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں