کاش میں تیرے چوبارے کا کبوتر ہوتی۔ تحریر نوشابہ یعقوب راجہ پیرس

کاش میں تیرے چوبارے کا کبوتر ہوتی۔
کالم نویس:نوشابہ یعقوب راجہ

کل سے حرم کا طواف کرتے پرندوں کو دیکھ کر دل میں یہ خواہش مچل رہی ہے کاش مجھ گنہگار کا شمار بھی پرندوں کے اس خوش نصیب جھنڈ میں ہوتا جو حرم کی پاکیزہ فضاوں میں بڑے پیار اور محبت سے طواف میں مشغول تھا۔ جن کے محبت بھرے طواف نے حضرت انسان کو حیرت میں مبتلا کر ڈالا۔نجانے اللہ رب العزت کی کتنی ہی فرمانبردار اور خوبصورت مخلوق اس کی دن رات تسبیح و عبادت میں مشغول ہے۔اللہ رب العزت کے نائب بنانے سے قبل سے دن رات تسبیح و عبادت میں مشغول اور رہتی دنیا تک اسی عبادت کی مستی میں مشغول رہے گی۔اس ایمان افروز منظر نے عبادت کا ڈھنگ اور انداز بھی دکھا ڈالا کتنی محبت اور کتنی عقیدت کی عبادت ساری مخلوقات کرتی ہیں۔اللہ رب العزت اپنی کتاب قرآن پاک میں ابابیل کے لشکر کا ذکر کرتے ہیں جب ہاتھی والوں پر کنکریوں کی بارش برسا کر انھیں گھاس بھوس کی مانند بنا ڈالا۔اللہ کے حرم کی حفاظت کروائی۔مگر ساری دنیا کو کل اس طرح کے لشکر نے حرم کے گرد طواف کر کے حیرت میں مبتلا کر ڈالا۔جس محبت اور عقیدت کا وہ طواف کا منظر ہے خدا گواہ ہے پرندوں کے اس گروہ کی قسمت اور مقام پر رشک آتا ہے۔یہ اور ان جیسی اور مخلوقات کتنی نصیب والی ہیں جو ہمہ وقت اللہ کے ذکر اور عبادت میں مشغول رہتے ہیں ۔روز ازل سے اللہ کی تمام مخلوقات چاند ،سورج،ستارے،سیارے،درخت،چرند،پرند،دریا،سمندراور سب کی سب مخلوق اپنے اپنے مدار میں گھوم رہی ہے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے اور اگر اپنے مدار سے کچھ باہر ہے تو حضرت انسان ۔کبھی مدار سے باہر اور کبھی حد سے باہر!!! حالانکہ اسے بھی حکم خداوندی تھا کہ” پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جاو۔”

جناب حضرت انسان!!! اللہ کے نائب !!!جنھیں ان پر ان جیسی تمام مخلوقات پر فوقیت حاصل ہے۔ہم وہ مخلوق ہیں جنھیں علم سے نوازا کیا اللہ رب العزت نے اختیار دیا فرشتوں سے سجدہ کروایا۔ہم کس مقام پر کھڑے ہیں؟؟؟اللہ رب العزت نے حضرت انسان کو ایک گروہ کے طواف کا نظارہ کروا کر بتلا دیا اطاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے اور نہ ہی آج کم ہیں کروبیاں!!!
افسوس آج خلیفہ خدا کے پاس نہ اطاعت اور نہ ہی درد دل ہے !!!
ہمارا تو حال ہے
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے!!
آج چھوٹے سے مہلک کرونا وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں اس کا شکار ہوئے ہیں اور ہر روز اس وائرس کا شکار ہونے والوں اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس نے دنیا میں وباء کی شکل اختیار کر لی ہے۔ساری دنیا میں ایمرجنسی کی صورت حال ہے۔سکول کالجز،یونیورسٹیز، پبلک فورمز،تھیٹرز اور ہر وہ مقام جہاں اس بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ ہو سکتا ہے بند کر دیا گیا ہے اگر یہ کہا جائے کے دنیا کے بعض حصوں میں لوگوں کو گھروں تک محصور کر دیا گیا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔اس وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اور علاج بہت ضروری ہے۔حفظان صحت کے اصولوں پر اور اس وائرس کے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے ۔
مگر دوسری طرف بحیثیت مسلمان ہمارا موت پر ایمان ہے وہ ایک دن آ کر رہے گی۔اس کا وقت، مقام اور اس کا سبب سب طے ہے آج بھی کچھ لوگ کرونا وائرس سے کچھ اور بیماریوں اور کچھ طبعی موت مر رہے ہیں۔ہم سب نے ایک دن مرنا ہے اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے۔ہمیں جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ روحانی بیماریوں کا بھی علاج کرنا چاہیے ۔کیونکہ جسمانی بیماریاں پرہیز اور روحانی بیماریاں پرہیز گاری سے ٹھیک ہوتی ہیں۔اللہ سے دعاگو ہوں وہ اب کی بار اپنے خلیفہ کی جسمانی کے ساتھ روحانی بیماریوں سے نجات بخشے۔۔ہمیں اپنے خلیفہ ہونے کے مقام کی پہچان کروائے اور اپنے منصب کے مقام کا ادراک بھی کروائے۔ یا رب العالمین ہمارے صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے درگزر فرما ہمیں اور دنیا کے تمام انسانوں کو کرونا وائرس سے نجات دے سب کی حفاظت فرما اور اب کی بار ہمارے اجسام کے ساتھ روحوں کو بھی ٹھیک کر دے اور ایک تمنا اپنے اس پرندوں کے جھنڈ جیسی عبادت کی اور طواف کی لذت عطا فرما۔ہمیں ہماری خلافت کے آداب سکھا دے میرے پیارے غفور و رحیم رب العالمین ایسا بنا دے کہ تجھے پسند آجائیں ہم روز محشر تیرے عرش کے سائے تلے آ جائیں۔آمین یا رب العالمین!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں